Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3489 (مشکوۃ المصابیح)
[3489] صحیح، رواہ الترمذي (1411) و مسلم (1682/37)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا ضَرَّتَيْنِ فَرَمَتْ إِحْدَاہُمَا الْأُخْرَی بِحَجَرٍ أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأَلْقَتْ جَنِينَہَا فَقَضَی رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي الجَنينِ غُرَّةً: عبْداً أَوْ أَمَةٌ وَجَعَلَہُ عَلَی عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ ہَذِہِ رِوَايَةُ التِّرْمِذِيِّ وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَہَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ وَہِيَ حُبْلَی فَقَتَلَتْہَا قَالَ: وَإِحْدَاہُمَا لِحْيَانَيَّةٌ قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ دِيَة الْمَقْتُول عَلَی عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِہَا
مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ دو عورتیں سوتن تھیں،ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر یا خیمے کا بانس مارا تو اس کا جنین (پیٹ کا بچہ) گر گیا،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنین کے بارے میں غلام یا لونڈی کا فیصلہ دیا اور اسے اس عورت کے عصبہ پر مقرر فرمایا۔یہ ترمذی کی روایت ہے۔اور مسلم کی روایت میں ہے: عورت نے اپنی سوتن کو جو کہ حاملہ تھی،خیمے کا بانس مارا تو اس نے اسے قتل کر دیا،اور کہا: ان میں سے ایک لحیانیہ تھی،راوی بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبہ (رشتہ داروں) پر مقرر فرمائی اور جو اس (مقتولہ) کے پیٹ میں تھا اس کی دیت ایک غلام مقرر کی۔صحیح،رواہ الترمذی و مسلم۔