Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3513 (مشکوۃ المصابیح)

[3513] رواہ مسلم (225/ 124)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي؟ قَالَ: ((فَلَا تُعْطِہِ مَالَكَ)) قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي؟ قَالَ: ((قَاتِلْہُ)) قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي؟ قَالَ: ((فَأَنْتَ شَہِيدٌ)) . قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُہُ؟ قَالَ: ((ہُوَ فِي النَّارِ)) . رَوَاہُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی آیا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیں اگر کوئی آدمی (ناحق طور پر) میرا مال لینے کے ارادے سے آئے (تو میں کیا کروں؟) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم اپنا مال اسے مت لینے دو۔‘‘ اس نے عرض کیا،مجھے بتائیں اگر وہ مجھ سے جھگڑا کرے تو؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم بھی اس سے جھگڑا کرو۔‘‘ اس نے عرض کیا: مجھے بتائیں اگر وہ مجھے قتل کر دے؟ تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم شہید ہو۔‘‘ اس نے عرض کیا: مجھے بتائیں اگر میں اسے قتل کر دوں؟ تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’وہ جہنمی ہے۔‘‘ (تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں)۔رواہ مسلم۔