Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3526 (مشکوۃ المصابیح)
[3526] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (2707) ٭ ابن لھیعۃ مدلس و عنعن .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَنْ كَشَفَ سِتْرًا فَأَدْخَلَ بَصَرَہُ فِي الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يُؤْذَنَ لَہُ فَرَأَی عَوْرَةَ أَہْلِہِ فَقَدْ أَتَی حَدًّا لَا يَحِلُّ لَہُ أَنْ يَأْتِيَہُ وَلَوْ أَنَّہُ حِينَ أَدْخَلَ بَصَرَہُ فَاسْتَقْبَلَہُ رَجُلٌ فَفَقَأَ عَيْنَہُ مَا عَيَّرْتُ عَلَيْہِ وَإِنْ مَرَّ الرَّجُلُ عَلَی بَابٍ لَا سِتْرَ لَہُ غَيْرِ مُغْلَقٍ فَنَظَرَ فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْہِ إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَی أَہْلِ الْبَيْتِ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جس نے پردہ اٹھایا اور بلا اجازت گھر میں نظر ڈالی اور گھر والوں کی پردہ کی چیز کو دیکھ لیا تو اس نے ایک حد کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب کرنا اس کے لیے حلال نہیں تھا،اور اگر اس وقت،جب اس نے نظر ڈالی،ایک آدمی اس کے سامنے آ گیا اور اس نے اس کی آنکھ پھوڑ دی،میں اس کی سرزنش نہیں کروں گا،اور اگر آدمی کسی ایسے دروازے سے گزرے جس کا کوئی پردہ نہ ہو اور نہ وہ بند ہو اور وہ دیکھ لے تو اس کی کوئی غلطی نہیں،غلطی تو گھر والوں کی ہے۔‘‘ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے،اور انہوں نے کہا: یہ حدیث غریب ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی۔