Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3538 (مشکوۃ المصابیح)
[3538] متفق علیہ، رواہ البخاري (6875 الروایۃ الثانیۃ) و مسلم (2888/16، الروایۃ الأولٰی، 2888/14، الروایۃ الثانیۃ)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ((إِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُہُمَا عَلَی أَخِيہِ السِّلَاحَ فَہُمَا فِي جُرُفِ جَہَنَّمَ فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ دَخَلَاہَا جَمِيعًا)) . وَفِي رِوَايَةٍ عَنْہُ: قَالَ: ((إِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ بسيفہما فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ)) قُلْتُ: ہَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: ((إِنَّہُ كَانَ حَرِيصًا عَلَی قَتْلِ صَاحِبِہِ))
ابوبکرہ ؓ،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جب دو مسلمان ملیں اور ان میں سے ایک اپنے بھائی پر اسلحہ تان لے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں،جب ان میں سے کوئی اپنے مقابل کو قتل کر دیتا ہے تو وہ دونوں اکٹھے جہنم میں داخل ہو جاتے ہیں۔‘‘ اور ان سے ایک دوسری روایت میں ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جب دو مسلمان اپنی تلواریں سونت کر سامنے آ جاتے ہیں تو قاتل اور مقتول جہنمی ہیں۔‘‘ میں نے عرض کیا: قاتل تو ہے لیکن مقتول کس وجہ سے؟ (کہ وہ مظلوم ہونے کے باوجود جہنمی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیونکہ وہ اپنے ساتھی (مد مقابل) کو قتل کرنے پر حریص تھا۔‘‘ متفق علیہ۔