Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3539 (مشکوۃ المصابیح)

[3539] متفق علیہ، رواہ البخاري (6803، الروایۃ الأولٰی، 1501، الثانیۃ، 3018، الثالثۃ) و مسلم (1671/9، الروایۃ الأولی، 1671/10، الثانیۃ)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَہُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا فَفَعَلُوا فَصَحُّوا فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَہَا وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ فَبَعَثَ فِي آثَارِہِمْ فَأُتِيَ بِہِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَہُمْ ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْہُمْ حَتَّی مَاتُوا . وَفِي رِوَايَةٍ: فَسَمَّرُوا أَعْيُنَہُمْ وَفِي رِوَايَةٍ: أَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ فَكَحَّلَہُمْ بِہَا وَطَرَحَہُمْ بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَمَا يُسْقَوْنَ حَتَّی مَاتُوا

انس ؓ بیان کرتے ہیں،عکل کے کچھ لوگ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی تو آپ نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے پاس جانے کا حکم فرمایا تاکہ وہاں وہ ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں،انہوں نے ایسے کیا اور وہ صحت یاب ہو گئے،اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہانک کر لے گئے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے تعاقب میں آدمی بھیجے تو وہ انہیں پکڑ کر لے آئے،آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں،پھر ان کا خون بہتا رہا حتی کہ وہ فوت ہو گئے۔ایک دوسری روایت میں ہے:’’انہوں نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے:’’آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلائیوں کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں گرم کیا گیا اور انہیں ان کی آنکھوں میں پھیر کر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا وہ پانی طلب کرتے رہے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا حتی کہ وہ فوت ہو گئے۔متفق علیہ۔