Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3572 (مشکوۃ المصابیح)
[3572] إسنادہ حسن، رواہ الترمذي (1454) و أبو داود (4379)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْہُ: أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَی عَہْدِ النَّبِيِّ ﷺ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاہَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَہَا فَقَضَی حَاجَتَہُ مِنْہَا فَصَاحَتْ وَانْطَلَقَ وَمَرَّتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُہَاجِرِينَ فَقَالَتْ: إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ فَأَتَوْا بِہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ لَہَا: ((اذْہَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللہُ لَكِ)) وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْہَا: ((ارْجُمُوہُ)) وَقَالَ: ((لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَہَا أَہْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْہُمْ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ایک عورت نماز پڑھنے کے لیے نکلی تو ایک آدمی اسے ملا اور اس نے اسے ڈھانپ لیا اور زبردستی اس سے زنا کر لیا،اس نے شور مچایا تو وہ چلا گیا،اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت گزری تو اس (عورت) نے کہا: فلاں شخص نے اس اس طرح میرے ساتھ کیا ہے،انہوں نے اس آدمی کو پکڑا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا:’’تم جاؤ اللہ نے تمہیں بخش دیا۔‘‘ اور اس کے ساتھ زنا کرنے والے شخص کے متعلق فرمایا:’’اسے رجم کر دو۔‘‘ اور فرمایا:’’اس شخص نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ایسی توبہ اہل مدینہ کرتے تو وہ ان کی طرف سے قبول ہو جاتی۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ الترمذی و ابوداؤد۔