Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3603 (مشکوۃ المصابیح)
[3603] حسن، رواہ أبو داود (4410) والنسائي (90/8۔ 91 ح 4981 وقال: ھذا حدیث منکر و مصعب بن ثابت: لیس بالقوي) ٭ مصعب: حسن الحدیث، و ثقہ الجمھور و للحدیث شواھد عند النسائي (4980) وغیرہ .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ((اقْطَعُوہُ)) فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِہِ الثَّانِيَةَ فَقَالَ: ((اقْطَعُوہُ)) فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِہِ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: ((اقْطَعُوہُ)) فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِہِ الرَّابِعَةَ فَقَالَ: ((اقْطَعُوہُ)) فَقُطِعَ فَأُتِيَ بِہِ الْخَامِسَةَ فَقَالَ: ((اقْتُلُوہُ)) فَانْطَلَقْنَا بِہِ فَقَتَلْنَاہُ ثُمَّ اجْتَرَرْنَاہُ فَأَلْقَيْنَاہُ فِي بِئْرٍ وَرَمَيْنَا عَلَيْہِ الحجارةَ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں،ایک چور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اس کا ہاتھ کاٹ دو۔‘‘ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔پھر اسے (دوسری چوری میں) دوسری مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اس کا ہاتھ کاٹ دو۔‘‘ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا،پھر اسے تیسری مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اس کا پاؤں کاٹ دو۔‘‘ اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا،پھر چوتھی مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اس کا پاؤں کاٹ دو۔‘‘ اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا،پھر اسے پانچویں مرتبہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اسے قتل کر دو۔‘‘ ہم اسے لے گئے اور اسے قتل کر دیا۔پھر ہم نے اسے گھسیٹ کر کنویں میں پھینک دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے۔حسن،رواہ ابوداؤد و النسائی۔