Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3610 (مشکوۃ المصابیح)

[3610] متفق علیہ، رواہ البخاري (3475) و مسلم (1688/8)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَن عائشةَ رَضِي اللہ عَنْہَا أَنَّ قُرَيْشًا أَہَمَّہُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ؟ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْہِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَكَلَّمَہُ أُسَامَةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللہِ؟)) ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّمَا أَہْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّہُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيہِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوہُ وَإِذَا سَرَقَ فِيہِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْہِ الْحَدَّ وَايْمُ اللہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَہَا)) . مُتَّفَقٌ عَلَيْہِ. وَفِي روايةٍ لمسلمٍ: قالتْ: كانتِ امرأةٌ مخزوميَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُہُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ بِقَطْعِ يَدِہَا فَأَتَی أَہْلُہَا أُسَامَةَ فَكَلَّمُوہُ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللہِ ﷺ بِقَطْعِ يَدِہَا فَأَتَی أَہْلُہَا أُسَامَةَ فَكَلَّمُوہُ فَكَلَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِيہَا ثمَّ ذكرَ الحديثَ بنحوِ مَا تقدَّمَ

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ مخزومیہ عورت،جس نے چوری کی تھی،کے واقعہ نے قریشیوں کو غمزدہ کر دیا تو انہوں نے کہا: اس کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کون سفارش کرے؟ پھر انہوں نے کہا: یہ کام رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہیتے صرف اسامہ بن زید ؓ ہی کر سکتے ہیں۔اسامہ ؓ نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سفارش کی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟‘‘ پھر آپ کھڑے ہوئے،خطبہ ارشاد فرمایا،پھر فرمایا:’’تم سے پہلے لوگ صرف اسی وجہ سے ہلاک کر دیے گئے کہ جب ان میں سے خاندانی شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور شخص چوری کرتا تو وہ اس پر حد قائم کر دیتے،اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد (محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی فاطمہ ؓ) بھی چوری کرتیں تو میں ان کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔‘‘ بخاری،مسلم۔اور مسلم کی روایت میں ہے،عائشہ ؓ نے بیان کیا: ایک مخزومیہ عورت (فاطمہ بنت اسود) تھی جو عاریۃً چیزیں لیا کرتی تھی اور پھر ان کی واپسی کا انکار کر دیا کرتی تھی،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا تو اس کے خاندان والے اسامہ ؓ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے بات کی اور اسامہ ؓ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سفارش کی،پھر امام مسلم نے حدیث مذکورہ کے مطابق حدیث بیان کی۔متفق علیہ۔