Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3621 (مشکوۃ المصابیح)

[3621] صحیح، رواہ أبو داود (4477۔ 4478)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شربَ الخمرَ فَقَالَ: ((اضْرِبُوہُ)) فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِہِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِہِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِہِ ثُمَّ قَالَ: ((بَكِّتُوہُ)) فَأَقْبَلُوا عَلَيْہِ يَقُولُونَ: مَا اتَّقَيْتَ اللہَ مَا خَشِيتَ اللہَ وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللہُ. قَالَ: لَا تَقُولُوا ہَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْہِ الشَّيْطَانَ وَلَكِنْ قُولُوا: اللہُمَّ اغْفِرْ لَہُ اللہُمَّ ارْحَمْہُ . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اسے مارو۔‘‘ ہم میں سے کوئی اسے ہاتھ مار رہا تھا،کوئی اپنے کپڑے سے اور کوئی اپنے جوتے سے مار رہا تھا پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اسے ملامت کرو۔‘‘ وہ اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: تو اللہ سے نہ ڈرا،تجھے اللہ کا خوف نہ آیا اور تجھے اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حیا نہ آئی،اور کسی نے کہہ دیا: اللہ تمہیں رسوا کرے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اس طرح نہ کہو،اور اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔بلکہ تم کہو: اے اللہ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما۔‘‘ صحیح،رواہ ابوداؤد۔