Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3629 (مشکوۃ المصابیح)

[3629] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (2626) و ابن ماجہ (2604) ٭ أبو إسحاق السبیعي مدلس و عنعن .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ((مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعُجِّلَ عُقُوبَتَہُ فِي الدُّنْيَا فَاللہُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَی عَبْدِہِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَة وَمن أصَاب حد فسترہ اللہُ عليہِ وَعَفَا عَنْہُ فَاللہُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْہُ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ہَذَا الْبَاب خَال عَن الْفَصْل الثَّالِث

علی ؓ،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جس شخص نے موجب حد کسی گناہ کا ارتکاب کیا اور اسے دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو اللہ اس سے زیادہ عادل ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے،اور جو شخص کسی موجب حد گناہ کا ارتکاب کرے اور اللہ اس کی پردہ پوشی فرمائے اور اس سے درگزر فرمائے تو اللہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ وہ کسی چیز پر مؤاخذہ فرمائے جس سے اس نے درگزر فرمایا ہو۔‘‘ ترمذی،ابن ماجہ۔اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔