Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3671 (مشکوۃ المصابیح)

[3671] رواہ مسلم (64، 63 /1854)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقْدَ بَرِئَ وَمَنْ كَرِہَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ)) قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُہُمْ؟ قَالَ: ((لَا مَا صَلَّوْا لَا مَا صَلَّوْا)) أَيْ: مَنْ كَرِہَ بِقَلْبِہِ وَأنكر بِقَلْبِہ. رَوَاہُ مُسلم

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم پر ایسے حکمران ہوں گے کہ تم ان کے بعض افعال کو اچھا جانو گے اور بعض کو بُرا،جس نے انکار کیا تو وہ مداہنت و نفاق سے بری ہو گیا اور جس نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو وہ (وبال سے) بچ گیا،لیکن جو راضی ہو گیا اور ان کے پیچھے لگا (تو وہ نفاق وبال میں شریک ہو گیا)۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’نہیں،جب تک وہ نماز پڑھیں،نہیں،جب تک وہ نماز پڑھیں۔‘‘ یعنی جس نے اپنے دل سے ناپسند کیا اور اپنے دل سے انکار کیا۔رواہ مسلم۔