Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3683 (مشکوۃ المصابیح)

[3683] متفق علیہ، رواہ البخاري (7149، 2261) و مسلم (1733/14، 1733/15)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي فَقَالَ أَحَدُہُمَا: يَا رَسُولَ اللہِ أَمِّرْنَا عَلَی بَعْضِ مَا وَلَّاكَ اللہُ وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ: ((إِنَّا وَاللہِ لَا نُوَلِّي عَلَی ہَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَہُ وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْہِ)) . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: ((لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَی عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَہُ))

ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں،میں اور میرے دو چچا زاد،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک نے عرض کیا،اللہ کے رسول! اللہ نے جن امور پر آپ کو سرپرست بنایا ہے ان میں سے بعض پر ہمیں امیر مقرر فرما دیں،اور دوسرے شخص نے بھی اسی طرح کہا،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اللہ کی قسم! بے شک ہم اس کام پر کسی ایسے شخص کو امیر نہیں بناتے جو اس کا مطالبہ کرے اور نہ ہی اس کی حرص رکھنے والے شخص کو حکمران بناتے ہیں۔‘‘ دوسری روایت میں ہے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ہم اپنے عمل پر کسی ایسے شخص کو عامل مقرر نہیں کرتے جو اس کی خواہش کرتا ہے۔‘‘ متفق علیہ۔