Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3713 (مشکوۃ المصابیح)

[3713] إسنادہ ضعیف، رواہ أحمد (181/5 ح 21906) ٭ فیہ ابن لھیعۃ ضعیف لاختلاطہ و للحدیث سند آخر ضعیف عند أحمد و الطحاوي في شرح مشکل الآثار (39/1 ح 46)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((سِتَّةَ أَيَّامٍ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ بَعْدُ)) فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ قَالَ: ((أُوصِيكَ بِتَقْوَی اللہِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِہِ وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ))

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھ روز مجھے فرماتے رہے:’’ابوذر! جو کچھ تجھے بتایا جا رہا ہے اسے یاد کر لو۔‘‘ جب اس کے بعد ساتواں روز ہوا تو فرمایا:’’میں تیرے ظاہری و باطنی امور میں تجھے اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں،اور جب تو بُرائی کر بیٹھے تو پھر نیکی کر،اور کسی سے کوئی چیز نہ مانگنا خواہ تمہارا کوڑا گِر پڑے،اور امانت نہ رکھ اور دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرنا۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ احمد۔