Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3714 (مشکوۃ المصابیح)

[3714] ضعیف، رواہ أحمد (267/5 ح 22656) [و الطبراني في مسند الشامیین (1580)] ٭ یزید بن أیھم ھذا غیر یزید بن أبي مالک، وھو مجھول الحال، روی عنہ جماعۃ و ذکرہ ابن حبان فی الثقات و لحدیثہ شاھد ضعیف عند الطبراني فی الکبیر (135/12 ح 12689) و الأوسط (288)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشَرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أتاہُ اللہُ عزَّ وجلَّ مغلولاً يومَ القيامةِ يَدُہُ إِلَی عُنُقِہِ فَكَّہُ بِرُّہُ أَوْ أَوْبَقَہُ إِثْمُہُ أَوَّلُہَا مَلَامَةٌ وَأَوْسَطُہَا نَدَامَةٌ وَآخِرُہَا خِزْيٌ يومَ القيامةِ))

ابوامامہ ؓ،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جس شخص نے دس یا اس سے زائد افراد کے امور کی سرپرستی قبول کی تو روزِ قیامت وہ اللہ عزوجل کے حضور اس حال میں پیش ہو گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھا ہو گا،اس کی نیکی اسے کھول دے گی یا اس کا گناہ اسے ہلاک کر دے گا۔امارت کا آغاز ملامت،اس کا وسط باعث ندامت اور اس کا آخر روزِ قیامت باعث رسوائی ہو گا۔‘‘ ضعیف،رواہ احمد۔