Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3735 (مشکوۃ المصابیح)

[3735] سندہ ضعیف، رواہ أبو داود (3573) و ابن ماجہ (2315) [و الترمذي (1322 من طریق آخر و سندہ ضعیف) ٭ خلف بن خلیفۃ صدوق اختلط في آخرہ فالسند ضعیف و للحدیث شواھد ضعیفۃ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ وَاثْنَانِ فِي النَّارِ فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَی بِہِ وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَہُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ قَضَی لِلنَّاسِ عَلَی جَہْلٍ فَہُوَ فِي النَّارِ . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہْ

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’قاضی تین قسم کے ہیں،ان میں سے ایک جنتی اور دو جہنمی ہیں،وہ قاضی جنتی ہے جس نے حق پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کیا،اور وہ قاضی جس نے حق پہچان کر فیصلہ میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے،اور وہ آدمی جس نے جہالت کی بنا پر لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا تو وہ بھی جہنمی ہے۔‘‘ سندہ ضعیف،رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔