Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3738 (مشکوۃ المصابیح)

[3738] سندہ ضعیف، رواہ الترمذي (1331 و قال: حسن) و أبو داود (3582) و ابن ماجہ (2310) ٭ شریک القاضی مدلس و عنعن و حنش بن المعتمر ضعیف ضعفہ الجمھور و للحدیث شواھد ضعیفۃ عند ابن ماجہ (2310) وغیرہ . حدیث أم سلمۃ یأتي (3770)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَن عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی الْيَمَنِ قَاضِيًا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ تُرْسِلُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ اللہَ سَيَہْدِي قَلْبَكَ وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ إِذَا تَقَاضَی إِلَيْكَ رَجُلَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّی تَسْمَعَ كَلَامَ الْآخَرِ فَإِنَّہُ أَحْرَی أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ)) . قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ. رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہْ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ: ((إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ برأيي)) فِي بَابِ ((الْأَقْضِيَةِ وَالشَّہَادَاتِ)) إِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالَی

علی ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! آپ مجھے بھیج رہے ہیں،جبکہ میں نوعمر ہوں اور مجھے قضا کے بارے میں علم بھی نہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بے شک عنقریب اللہ تیرے دل کی راہنمائی کرے گا اور تیری زبان کو استقامت عطا فرمائے گا،جب دو آدمی تیرے پاس مقدمہ لے کر آئیں تو دوسرے فریق کی بات سنے بغیر پہلے فریق کے حق میں فیصلہ نہ کرنا کیونکہ یہ لائق تر ہے کہ تیرے لیے قضا واضح ہو جائے۔‘‘ علی ؓ بیان کرتے ہیں،اس کے بعد مجھے قضا میں شک نہیں ہوا۔اور ام سلمہ ؓ سے مروی حدیث:’’میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا۔‘‘ کو ہم ’’باب الاقضیۃ و الشھادات‘‘ میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے۔سندہ ضعیف،رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ۔