Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3750 (مشکوۃ المصابیح)
[3750] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (1335 وقال: حسن غریب) ٭ داود الأودي: ضعیف .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن مُعَاذٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی الْيَمَنِ فَلَمَّا سِرْتُ أَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَرُدِدْتُ فَقَالَ: ((أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي فَإِنَّہُ غُلُولٌ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لہَذَا دعوتك فَامْضِ لعملك)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا،جب میں چلا تو آپ نے میرے پیچھے قاصد بھیج کر مجھے واپس بلا لیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تو جانتا ہے کہ میں نے تمہاری طرف (قاصد) کیوں بھیجا؟ (اس لیے کہ تمہیں کوئی وصیت کروں) تم میری اجازت کے بغیر کوئی چیز نہ لینا،کیونکہ (اگر تم لو گے تو) وہ خیانت ہو گی،اور جو شخص خیانت کرے گا وہ اس خیانت کو روز قیامت لے کر حاضر ہو گا۔میں نے اسی لیے تمہیں واپس بلایا تھا،اب تم اپنے کام کے لیے جاؤ۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی۔