Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3756 (مشکوۃ المصابیح)

[3756] إسنادہ حسن، رواہ البغوي في شرح السنۃ (91/10 ح 2495) و أحمد (197/4، 202 ح 17915، 17975)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن عَمْرِو بن العاصِ قَالَ: أَرْسَلَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ: ((أَنِ اجْمَعْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ وَثِيَابَكَ ثُمَّ ائْتِنِي)) قَالَ: فَأَتَيْتُہُ وَہُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: ((يَا عَمْرُو إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَيْكَ لِأَبْعَثَكَ فِي وُجْةٍ يُسَلِّمُكَ اللہُ وَيُغَنِّمُكَ وَأَزْعَبَ لَكَ زَعْبَةً مِنَ الْمَالِ)) . فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ مَا كَانَتْ ہِجْرَتِي لِلْمَالِ وَمَا كَانَتْ إِلَّا لِلَّہِ ولرسولِہ قَالَ: ((نِعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ)) . رَوَاہُ فِي ((شَرْحِ السُّنَّةِ)) وَرَوَی أَحْمَدُ نَحْوَہُ وَفِي روايتِہ: قَالَ: ((نِعْمَ المالُ الصَّالحُ للرَّجُلِ الصالحِ))

عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں اپنا اسلحہ اور کپڑے جمع کر کے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کر دوں،وہ بیان کرتے ہیں،میں حاضر خدمت ہوا تو آپ وضو فرما رہے تھے،آپ نے فرمایا:’’عمرو! میں نے تمہاری طرف پیغام بھیجا تھا کہ میں تمہیں کسی مہم پر روانہ کروں،اللہ تمہیں سلامت رکھے،تمہیں مال غنیمت عطا فرمائے اور میں تمہیں کچھ مال عطا کروں گا۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ہجرت مال کی خاطر نہیں تھی،وہ تو محض اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تھی۔آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’حلال مال،صالح مرد کے لیے اچھا ہے۔‘‘ شرح السنہ اور امام احمد نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے،اس کے الفاظ یہ ہیں:’’صالح انسان کے لیے حلال مال بہتر ہے۔‘‘ اسنادہ حسن،فی شرح السنہ و احمد۔