Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3758 (مشکوۃ المصابیح)

[3758] رواہ مسلم (1/ 1711) و شرح النووي (3/12) و السنن الکبری للبیھقي (252/10)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ((لَوْ يُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاہُمْ لَادَّعَی نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَہُمْ وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَيْہِ)) . رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَفِي ((شَرْحِہِ لِلنَّوَوِيِّ)) أَنَّہُ قَالَ: وَجَاءَ فِي رِوَايَةِ ((الْبَيْہَقِيِّ)) بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ أَوْ صَحِيحٍ زِيَادَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا: ((لَكِنَّ الْبَيِّنَةَ علی المدَّعي واليمينَ علی مَنْ أنكر))

ابن عباس ؓ،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اگر لوگوں کو محض ان کے دعوی کی بنیاد پر دے دیا جائے تو لوگ آدمیوں کے خون اور اموال کا دعوی کرنے لگیں گے،لیکن قسم مدعی علیہ کے ذمے ہے۔‘‘ امام نووی ؒ نے صحیح مسلم کی شرح میں فرمایا: بیہقی کی روایت میں حسن یا صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے مروی مرفوع روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں:’’لیکن مدعی کے ذمے دلیل و گواہی پیش کرنا ہے اور جو شخص انکار کرے اس کے ذمے قسم ہے۔‘‘ رواہ مسلم و شرح النووی و سنن الکبری للبیھقی۔