Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3764 (مشکوۃ المصابیح)
[3764] رواہ مسلم (139/223)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيہِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ ہَذَا غَلَبَنِي عَلَی أَرْضٍ لِي فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: ہِيَ أَرْضِي وَفِي يَدِي لَيْسَ لَہُ فِيہَا حَقٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِلْحَضْرَمِيِّ: ((أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟)) قَالَ: لَا قَالَ: ((فَلَكَ يَمِينُہُ)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَی مَا حَلَفَ عَلَيْہِ وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ منْ شيءٍ قَالَ: ((ليسَ لكَ مِنْہُ إِلَّا ذَلِكَ)) . فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَمَّا أَدْبَرَ: ((لَئِنْ حَلَفَ عَلَی مَالِہِ لِيَأْكُلَہُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللہَ وَہُوَ عَنہُ معرض)) . رَوَاہُ مُسلم
علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ایک آدمی حضر موت سے اور ایک آدمی کندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرمی نے عرض کیا،اللہ کے رسول! اس شخص نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے،کندی نے عرض کیا: یہ زمین میری ہے اور میرے قبضہ میں ہے،اس کا اس پر کوئی حق نہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا:’’کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا،نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تم اس سے قسم لے لو۔‘‘ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو ایک فاجر شخص ہے،وہ قسم کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ہے اور نہ کسی چیز سے پرہیز کرتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تمہیں اس سے یہی کچھ مل سکتا ہے۔‘‘ جب وہ (کندی) قسم کھانے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اگر اس نے اس کا ناحق مال کھانے کے لیے قسم اٹھائی تو یہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے اعراض فرمائے گا۔‘‘ رواہ مسلم۔