Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3787 (مشکوۃ المصابیح)
[3787] رواہ البخاري (2790)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَنْ آمَنَ بِاللہِ وَرَسُولِہِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ كَانَ حَقًّا عَلَی اللہِ أَنْ يُدْخِلَہُ الْجَنَّةَ جَاہَدَ فِي سہل اللہِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِہِ الَّتِي وُلِدَ فِيہَا)) . قَالُوا: أفَلا نُبشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّہَا اللہُ لِلْمُجَاہِدِينَ فِي سَبِيلِ اللہِ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللہَ فَاسْأَلُوہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَی الْجَنَّةِ وَفَوْقَہُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْہُ تُفَجَّرُ أنہارُ الجنَّةِ)) . رَوَاہُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے،نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے۔(خواہ) اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا یا اپنی پیدائش کی سرزمین میں بیٹھا رہا۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا،کیا ہم اس کے متعلق لوگوں کو خوشخبری نہ دے دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جنت میں سو درجے ہیں،جنہیں اللہ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے،جب تم اللہ سے (جنت کا) سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو،کیونکہ وہ افضل و اعلی جنت ہے۔اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور جنت کی نہریں وہیں سے جاری ہوتی ہیں۔‘‘ رواہ البخاری۔