Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3796 (مشکوۃ المصابیح)

[3796] رواہ مسلم (1889/125)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَہُمْ رَجُلٌ مُمْسِكٌ عِنَانَ فَرَسِہِ فِي سَبِيلِ اللہِ يَطِيرُ عَلَی مَتْنِہِ كُلَّمَا سَمِعَ ہَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْہِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّہُ أَوْ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ ہَذِہِ الشَّعَفِ أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ ہَذِہِ الْأَوْدِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ اللہ حَتَّی يَأْتِيَہُ الْيَقِينُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِي خير)) . رَوَاہُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’لوگوں میں سے اس شخص کی زندگی بہترین ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اللہ کی راہ میں نکلتا ہے،وہ جب کبھی خوف یا فریادی کی آواز سنتا ہے تو وہ اس (گھوڑے) کی پشت پر (تیز رفتاری کی وجہ سے) اڑتا ہوا جاتا ہے وہ قتل اور موت کو اس کی ممکنہ جگہ سے تلاش کرتا ہے،یا پھر اس آدمی کی زندگی بہترین ہے جو اپنی بکریاں لے کر کسی پہاڑ کی چوٹی پر یا کسی وادی میں پھرتا ہے،وہ نماز پڑھتا ہے،زکوۃ ادا کرتا ہے اور موت آنے تک اپنے رب کی عبادت کرتا رہتا ہے،یہ دیگر لوگوں سے خیر و بھلائی پر ہے۔‘‘ رواہ مسلم۔