Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3810 (مشکوۃ المصابیح)

[3810] رواہ مسلم (145/ 1901)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہُ قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَصْحَابُہُ حَتَّی سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَی بَدْرٍ وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((قُومُوا إِلَی جَنَّةٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ)) . قَالَ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ: بَخْ بَخْ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَی قَوْلِكَ: بَخْ بَخْ؟ قَالَ: لَا وَاللہِ يَا رَسُولَ اللہِ إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَہْلِہَا قَالَ: ((فَإِنَّكَ مِنْ أَہْلِہَا)) قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرْنِہِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْہُنَّ ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّی آكل تمراتي إِنَّہَا الْحَيَاة طَوِيلَةٌ قَالَ: فَرَمَی بِمَا كَانَ مَعَہُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَہُمْ حَتَّی قُتِلَ. رَوَاہُ مُسْلِمٌ

انس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ ؓ روانہ ہوئے حتی کہ وہ مشرکین سے پہلے بدر پہنچ گئے،اور مشرکین بھی پہنچ گئے،تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اس جنت کی طرف پیش قدمی کرو جس کا عرض زمین و آسمان کی مانند ہے۔‘‘ عمیر بن حُمام ؓ نے کہا: بہت خوب،بہت خوب! رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تمہیں یہ بات: بہت خوب،بہت خوب،کہنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! صرف اس امید نے کہ میں بھی جنتیوں میں سے ہو جاؤں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم جنتیوں میں سے ہو۔‘‘ انہوں نے ترکش سے کھجوریں نکالیں اور کھانے لگے،پھر کہا: اگر میں اپنی کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو پھر یہ ایک طویل زندگی ہے،راوی بیان کرتے ہیں،ان کے پاس جو کھجوریں تھیں،وہ انہوں نے پھینک دیں،پھر مشرکین کے ساتھ قتال کیا حتی کہ وہ شہید کر دیے گئے۔رواہ مسلم۔