Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3815 (مشکوۃ المصابیح)

[3815] رواہ البخاري (4423)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ رَجَعَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: ((إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ)) . وَفِي رِوَايَةٍ: ((إِلَّا شَرِكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ)) . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ وَہُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ: ((وہُم بالمدينةِ حَبسہم الْعذر)) . رَوَاہُ البُخَارِيّ

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے،جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا:’’مدینہ میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں،کہ تم جہاں بھی گئے اور جس وادی سے گزرے تو وہ تمہارے ساتھ ہی تھے۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے:’’وہ اجر میں تمہارے ساتھ شریک ہیں۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو مدینہ ہی میں تھے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’(ہاں) وہ مدینہ ہی میں تھے،کیونکہ عذر نے انہیں روک رکھا تھا۔‘‘ رواہ البخاری۔