Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3830 (مشکوۃ المصابیح)

[3830] إسنادہ حسن، رواہ الترمذي (1650 و قال: حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن أبي ہريرةَ قَالَ: مَرَّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ ﷺ بِشِعْبٍ فِيہِ عُيَيْنَةٌ مِنْ مَاءٍ عَذْبَةٌ فَأَعْجَبَتْہُ فَقَالَ: لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ فَأَقَمْتُ فِي ہَذَا الشِّعْبِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ: ((لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ مَقَامَ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ اللہ أفضل من صلَاتہ سَبْعِينَ عَامًا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللہُ لَكُمْ وَيُدْخِلَكُمُ الْجَنَّةَ؟ اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللہِ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللہِ فَوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبت لَہُ الْجنَّة)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی ایک گھاٹی کے پاس سے گزرا جس میں میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ تھا،اسے یہ بھلا محسوس ہوا تو انہوں نے کہا : اگر میں لوگوں سے الگ تھلک ہو جاؤں تو میں اس گھاٹی میں رہائش اختیار کر لوں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ایسی خواہش مت کرو۔کیونکہ تم میں سے کسی کا اللہ کی راہ میں ٹھہرنا اس کا اپنے گھر میں ستر سال نماز پڑھنے سے بہتر ہے،کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف فرما دے اور تمہیں جنت میں داخل فرما دے،اللہ کی راہ میں جہاد کرو،جس شخص نے ’’فواق ناقہ‘‘ (تھن سے دو دفعہ دودھ نکالنے کے درمیانی وقفے) جتنا اللہ کی راہ میں قتال کیا تو اس پر جنت واجب ہو گئی۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ الترمذی۔