Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3847 (مشکوۃ المصابیح)

[3847] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (2519) [و صححہ الحاکم (85/2۔ 86) ووافقہ الذہبي]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن عبد اللہ بن عَمْرو أَنَّہُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْجِہَادِ فَقَالَ: ((يَا عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو إِنْ قَاتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَكَ اللہُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا وَإِنْ قَاتَلْتَ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا بَعَثَكَ اللہُ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا يَا عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو عَلَی أَيِّ حَالٍ قَاتَلْتَ أَوْ قُتِلْتَ بَعَثَكَ اللہُ عَلَی تِلْكَ الْحَالِ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے جہاد کے بارے میں بتائیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’عبداللہ بن عمرو! اگر تم نے ثابت قدمی اور ثواب کی امید رکھنے والے کی نیت سے جہاد کیا تو اللہ تمہیں اسی نیت کے مطابق صابر و محتسب کے طور پر اٹھائے گا،اور اگر تم نے دکھلانے کے لیے اور تکاثر و تفاخر کے طور پر جہاد کیا تو اللہ تمہیں ریا کار اور فخر کرنے والا بنا کر اٹھائے گا،عبداللہ بن عمرو! تم نے جس بھی حالت پر قتال کیا یا تو قتل کر دیا گیا تو اللہ تمہیں اسی حالت پر اٹھائے گا۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد۔