Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3858 (مشکوۃ المصابیح)

[3858] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (1644) ٭ أبو یزید الخولاني مجھول الحال: لم یوثقہ غیر الترمذي فیما أعلم و قال فی التقریب: ’’مجھول‘‘ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن فَضالةَ بنِ عُبيد قَالَ: سمِعْتُ عمَرَ بن الْخطاب يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: الشُّہَدَاءُ أَرْبَعَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللہَ حَتَّی قُتِلَ فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْہِ أَعْيُنَہُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ہَكَذَا وَرَفَعَ رَأْسَہُ حَتَّی سَقَطَتْ قَلَنْسُوَتُہُ فَمَا أَدْرِي أَقَلَنْسُوَةَ عُمَرَ أَرَادَ أَمْ قَلَنْسُوَةَ النَّبِيِّ ﷺ؟ قَالَ: ((وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ كَأَنَّمَا ضَرَبَ جِلْدَہُ بِشَوْكٍ طَلْحٍ مِنَ الْجُبْنِ أَتَاہُ سَہْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَہُ فَہُوَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللہَ حَتَّی قُتِلَ فَذَلِكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ أَسْرَفَ عَلَی نَفْسِہِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللہَ حَتَّی قُتِلَ فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَةِ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے عمر بن خطاب ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا،وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’شہداء کی چار قسمیں ہیں: ایک وہ مومن جو کامل ایمان والا جس نے دشمن سے ملاقات کی تو اس نے اللہ کو (اپنا عمل) سچ کر دکھایا حتی کہ وہ شہید کر دیا گیا،چنانچہ یہی وہ شخص ہے جس کی طرف لوگ روزِ قیامت اس طرح اپنی آنکھیں اٹھا کر دیکھیں گے۔‘‘ اور انہوں نے اپنا سر اٹھایا حتی کہ ان کی ٹوپی گر پڑی،راوی بیان کرتے ہیں،مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے عمر ؓ کی ٹوپی مراد لی یا نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ٹوپی،فرمایا:’’(دوسرا) مومن آدمی کامل ایمان والا وہ ہے،جو دشمن سے ملاقات کرتا ہے لیکن بزدلی کی وجہ سے اس کی جلد میں طلح (کانٹے دار بڑا درخت جس کے پھول خوشبو دار ہوتے ہیں) کے کانٹے چھبوئے جا رہے ہیں،پھر ایک نامعلوم تیر آتا ہے تو وہ اسے قتل کر دیتا ہے،یہ شخص دوسرے درجے کا ہے۔(تیسرا) وہ مومن آدمی جس کی نیکیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی،وہ جب دشمن سے ملاقات کرتا ہے تو اللہ کو (اپنا عمل) سچ کر دکھاتا ہے،حتی کہ وہ شہید ہو جاتا ہے،یہ تیسرے درجے میں ہے،اور (چوتھا) وہ مومن آدمی جس نے (گناہ کر کے) اپنے نفس پر زیادتی کی،وہ دشمن سے ملتا ہے تو اللہ کو (اپنا عمل) سچ کر دکھاتا ہے حتی کہ وہ قتل کر دیا جاتا ہے،یہ شخص چوتھے درجے میں ہے۔‘‘ ترمذی،اور فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی۔