Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3859 (مشکوۃ المصابیح)

[3859] حسن، رواہ الدارمي (206/2۔ 207 ح 2416، نسخۃ محققۃ: 2455) ٭ معاویۃ بن یحیی الصدفي ضعیف و لکن رواہ ابن حبان (الإحسان: 4644) و أحمد (185/4۔ 186) وغیرہما بسند حسن نحوہ فالحدیث حسن .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن عُتبةَ بن عبدٍ السَّلَميِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم: الْقَتْلَی ثَلَاثَة: مُؤمن جَاہد نَفسہ وَمَالِہِ فِي سَبِيلِ اللہِ فَإِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّی يُقْتَلَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ فِيہِ: ((فَذَلِكَ الشَّہِيدُ الْمُمْتَحَنُ فِي خَيْمَةِ اللہِ تَحْتَ عَرْشِہِ لَا يَفْضُلُہُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ وَمُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا جَاہَدَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فِي سَبِيلِ اللہِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّی يُقْتَلَ)) قَالَ النَّبِيُّ ﷺ فِيہِ: ((مُمَصْمِصَةٌ مَحَتْ ذُنُوبَہُ وَخَطَايَاہُ إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ وَمُنَافِقٌ جَاہَدَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فَإِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّی يُقْتَلَ فَذَاكَ فِي النَّارِ إِنَّ السيفَ لَا يمحُو النِّفاقَ)) . رَوَاہُ الدارميُّ

عتبہ بن عبدالسلمی ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’شہداء تین قسم کے ہیں: وہ مومن جس نے اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا،جب وہ دشمن سے ملاقات کرتا ہے تو قتال کرتا ہے حتی کہ وہ شہید کر دیا جاتا ہے۔‘‘ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا:’’یہ وہ شہید ہے جسے آزمایا گیا ہے،یہ اللہ کے عرش (کے سائے تلے) اللہ کے خیمے میں ہو گا اور انبیا ؑ کو اس پر فقط نبوت کے درجے کی وجہ سے فضیلت حاصل ہو گی،(دوسرا) وہ مومن جس کے نیک اعمال ہوں گے اور برائیاں بھی ہوں گی،اس نے اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا،جب وہ دشمن سے ملاقات کرتا ہے تو قتال کرتا ہے حتی کہ وہ شہید کر دیا جاتا ہے۔‘‘ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا:’’منصب شہادت نے اسے گناہوں سے پاک کر دیا،اس کے گناہوں اور اس کی خطاؤں کو ختم کر دیا،کیونکہ تلوار خطاؤں کو نبود کرنے والی ہے،اور اسے اس کی پسند کے باب جنت سے داخل کر دیا گیا،اور (تیسرا) منافق جس نے اپنے مال و جان سے جہاد کیا،یہ شخص آگ میں ہے،کیونکہ تلوار نفاق نہیں مٹاتی۔‘‘ حسن،رواہ الدارمی۔