Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3860 (مشکوۃ المصابیح)

[3860] إسنادہ ضعیف، رواہ البیھقي في شعب الإیمان (4297، نسخۃ محققۃ: 3988) و أحمد بن منیع (کما فی المطالب العالیۃ 54/3ح 911) ٭ فیہ شعوذ بن عبد الرحمٰن: و ثقہ ابن حبان وحدہ فیما أعلم و ابن عائذ عن عمر: مرسل، و للحدیث شاھد ضعیف عند الطبراني، انظر مجمع الزوائد (288/5)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن ابْن عائذٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ فَلَمَّا وُضِعَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ: لَا تُصَلِّ عَلَيْہِ يَا رَسُولَ اللہِ فَإِنَّہُ رَجُلٌ فَاجِرٌ فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی النَّاسِ فَقَالَ: ((ہَلْ رَآہُ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَلَی عَمَلِ الْإِسْلَامِ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللہِ حَرَسَ لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللہِ فَصَلَّی عَلَيْہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَحَثَا عَلَيْہِ التُّرَابَ وَقَالَ: ((أَصْحَابُكَ يَظُنُّونَ أَنَّكَ مِنْ أَہْلِ النَّارِ وَأَنَا أَشْہَدُ أَنَّكَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّةِ)) وَقَالَ: ((يَا عُمَرُ إِنَّكَ لَا تُسْأَلُ عَنْ أَعْمَالِ النَّاسِ وَلَكِنْ تُسْأَلُ عَنِ الْفِطْرَةِ)) . رَوَاہُ الْبَيْہَقِيُّ فِي ((شُعَبِ الْإِيمَانِ))

ابن عائذ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی آدمی کے جنازے کے ساتھ تشریف لائے،جب اسے رکھا گیا تو عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی نمازِ جنازہ مت پڑھائیں کیونکہ یہ فاجر شخص ہے،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کی طرف توجہ فرما کر پوچھا:’’کیا تم میں سے کسی نے اسے اسلام کا کوئی عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا: جی ہاں،اللہ کے رسول! اس نے ایک رات اللہ کی راہ میں پہرہ دیا تھا،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس (کی قبر) پر مٹی ڈالی۔اور فرمایا:’’تیرے ساتھیوں کا گمان ہے کہ تو جہنمی ہے،جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جنتی ہے۔‘‘ اور فرمایا: عمر! تجھ سے لوگوں کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا،لیکن تجھ سے عقیدہ کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔