Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3923 (مشکوۃ المصابیح)
[3923] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (527) ٭ حجاج بن أرطاۃ: ضعیف مدلس و عنعن، و تفرد بہ کما قال البیھقي (187/3)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ ﷺ عَبْدَ اللہِ بْنَ رَوَاحَةَ فِي سَرِيَّةٍ فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَغَدَا أَصْحَابُہُ وَقَالَ: أَتَخَلَّفُ وأُصلّي مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ ثُمَّ أَلْحَقُہُمْ فَلَمَّا صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ رَآہُ فَقَالَ: ((مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ؟)) فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ ثُمَّ أَلْحَقُہُمْ فَقَالَ: ((لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أدركْتَ فضلَ غدْوَتہمْ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ ؓ کو ایک لشکر کے ساتھ بھیجا،اتفاق سے وہ جمعہ کا دن تھا،ان کے ساتھی صبح ہی روانہ ہو گئے اور انہوں نے (دل میں) کہا: میں کچھ تاخیر کر لیتا ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتا ہوں اور پھر ان سے جا ملوں گا،جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ جمعہ پڑھی اور آپ نے انہیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تمہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح جانے سے کس نے روک رکھا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،میں نے ارادہ کیا کہ آپ کے ساتھ نماز جمعہ پڑھوں گا اور پھر ان کے ساتھ جا ملوں گا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اگر تم زمین بھر کی چیزیں خرچ کر دو تو تم ان کے جلدی جانے کی فضیلت حاصل نہیں کر سکتے۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی۔