Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3955 (مشکوۃ المصابیح)

[3955] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (2669)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن رَبَاح بن الرَّبيعِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي غزوةٍ فَرَأی الناسَ مجتمعينَ عَلَی شَيْءٍ فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: ((انْظُرُوا عَلَی من اجْتمع ہَؤُلَاءِ؟)) فَقَالَ: عَلَی امْرَأَةٍ قَتِيلٍ فَقَالَ: ((مَا كَانَتْ ہَذِہِ لِتُقَاتِلَ)) وَعَلَی الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: قُلْ لِخَالِدٍ: لَا تَقْتُلِ امْرَأَة وَلَا عسيفا . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

رباح بن ربیع ؓ بیان کرتے ہیں،ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے،آپ نے لوگوں کو کسی چیز کے گرد جمع دیکھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی بھیجا اور فرمایا: دیکھ وہ لوگ کس لیے جمع ہیں؟‘‘ وہ آیا تو اس نے عرض کیا: ایک مقتولہ عورت کے گرد جمع ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’یہ تو جنگجو نہ تھی۔‘‘ ہر اول دستے پر خالد بن ولید ؓ تھے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی بھیجا اور اسے فرمایا:’’خالد سے کہو: کسی عورت کو قتل کرو نہ کسی اجیر (اجرتی) کو۔‘‘ اسنادہ صحیح،رواہ ابوداؤد۔