Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3957 (مشکوۃ المصابیح)
[3957] إسنادہ ضعیف، رواہ أحمد (117/1 ح 948) و أبو داود (2665) ٭ أبو إسحاق مدلس و عنعن و لہ شواھد مرسلۃ .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ تَقَدَّمَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَتَبِعَہُ ابْنُہُ وَأَخُوہُ فَنَادَی: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَانْتُدِبَ لَہُ شبابٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَأَخْبَرُوہُ فَقَالَ: لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكُمْ إِنَّمَا أَرَدْنَا بَنِي عَمِّنَا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((قُمْ يَا حَمْزَةُ قُمْ يَا عَلِيُّ قُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ)) . فَأَقْبَلَ حَمْزَةُ إِلی عتبةَ وَأَقْبَلْتُ إِلَی شَيْبَةَ وَاخْتَلَفَ بَيْنَ عُبَيْدَةَ وَالْوَلِيدِ ضَرْبَتَانِ فَأَثْخَنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا صَاحِبَہُ ثُمَّ مِلْنَا عَلَی الْوَلِيدِ فَقَتَلْنَاہُ وَاحْتَمَلْنَا عُبَيْدَةَ. رَوَاہُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
علی ؓ بیان کرتے ہیں،جب بدر کا دن تھا تو عتبہ بن ربیعہ آگے بڑھا،اس کے پیچھے اس کا بیٹا (ولید بن عتبہ) اور اس کا بھائی (شیبہ بن ربیعہ) بھی آ گیا تو عتبہ نے کہا: مقابلے پر کون آتا ہے؟ اس کی اس للکار کا انصار کے نوجوانوں نے جواب دیا تو اس نے پوچھا،تم کون ہو؟ انہوں نے اسے بتایا تو اس نے کہا: ہمارا تم سے کوئی سروکار نہیں،ہم تو اپنے چچا زادوں سے لڑنا چاہتے ہیں،تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’حمزہ! اٹھو،علی! اٹھو،عبیدہ بن حارث! اٹھو۔‘‘ حمزہ ؓ عتبہ کی طرف متوجہ ہوئے اور میں شیبہ کی طرف،جبکہ عبیدہ ؓ اور ولید کے درمیان دو دو وار ہوئے اور اِن دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مقابل کو زخمی کیا،پھر ہم ولید پر پل پڑے اور اسے قتل کر دیا اور ہم نے عبیدہ ؓ کو اٹھا لیا۔اسنادہ ضعیف،رواہ احمد و ابوداؤد۔