Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3958 (مشکوۃ المصابیح)
[3958] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (1716 وقال: حسن غریب) و أبو داود (2647) ٭ فیہ یزید بن أبي زیاد: ضعیف مدلس مختلط . حدیث أمیۃ بن عبد اللہ یأتي (5247) و حدیث أبی الدرداء یأتي (5246)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن ابنِ عُمر قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي سَرِيَّةٍ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً فَأَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَاخْتَفَيْنَا بِہَا وَقُلْنَا: ہَلَكْنَا ثُمَّ أَتَيْنَا رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقُلْنَا: يَا رَسُول اللہ نَحن الفارون. قَالَ: ((بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ وَأَنَا فِئَتُكُمْ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ نَحْوَہُ وَقَالَ: ((لَا بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ)) قَالَ: فَدَنَوْنَا فَقَبَّلْنَا يَدہ فَقَالَ: ((أَنا فِئَة من الْمُسْلِمِينَ)) وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللہِ: كَانَ يَسْتَفْتِحُ وَحَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ ((ابْغُونِي فِي ضُعَفَائِكُمْ)) فِي بَابِ ((فَضْلِ الْفُقَرَاءِ)) إِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالَی
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں روانہ کیا،لوگ میدانِ جنگ سے بھاگ گئے اور ہم نے مدینہ منورہ پہنچ کر پناہ لی،اور ہم نے کہا: ہم مارے گئے،پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا،اللہ کے رسول! ہم تو فرار ہونے والے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’نہیں،بلکہ تم دوبارہ حملہ کرنے والے ہو،اور میں تمہاری جماعت ہوں (کہ فرار کے زمرے میں نہیں،بلکہ تم جماعت کے پاس آئے ہو)۔‘‘ ترمذی۔اور ابوداؤد کی روایت میں اسی طرح ہے،اور فرمایا:’’بلکہ جانے والے ہو۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں،ہم قریب ہوئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک کو بوسہ دیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میں مسلمانوں کی جماعت ہوں۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی و ابوداؤد۔اور ہم امیہ بن عبداللہ سے مروی حدیث ((کان یستفتح)) اور ابودرداء ؓ سے مروی حدیث:’’مجھے اپنے ضعفاء میں تلاش کرو۔باب فضل الفقراء میں ان شاءاللہ تعالیٰ ذکر کریں گے۔