Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4012 (مشکوۃ المصابیح)
[4012] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (2712)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن عبدِ اللہ بنِ عَمْروٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَی فِي النَّاسِ فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِہِمْ فَيُخَمِّسُہُ وَيُقَسِّمُہُ فَجَاءَ رَجُلٌ يَوْمًا بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ ہَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاہُ مِنَ الْغَنِيمَةِ قَالَ: ((أَسْمَعْتَ بِلَالًا نَادَی ثَلَاثًا؟)) قَالَ: نَعَمْ قَالَ: ((فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِہِ؟)) فَاعْتَذَرَ قَالَ: ((كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِہِ يومَ القيامةِ فلنْ أقبلَہ عَنْك)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مالِ غنیمت ملتا تو آپ بلال ؓ کو حکم فرماتے تو وہ عام اعلان کرتے جس پر صحابہ کرام وہ مال غنیمت لے کر حاضر ہوتے جو ان کے پاس ہوتا،آپ اس میں سے خمس نکالتے اور اسے تقسیم کرتے،چنانچہ ایک آدمی اس سے ایک روز بعد بالوں سے بنی ہوئی ایک لگام لے کر آیا اور عرض کیا،اللہ کے رسول! مالِ غنیمت میں ملنے والے مال میں یہ بھی تھی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تم نے بلال ؓ کو تین مرتبہ اعلان کرتے ہوئے سنا تھا؟‘‘ اس نے عرض کیا،جی ہاں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تو پھر کس چیز نے تجھے اسے لانے سے منع کیا؟‘‘ اس نے معذرت پیش کی،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اب تم اسے قیامت کے روز لاؤ گے،میں اسے تم سے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد۔