Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4043 (مشکوۃ المصابیح)
[4043] متفق علیہ، رواہ البخاري (2698) و مسلم (1783/92)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ ﷺ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَی ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: عَلَی أَنَّ مَنْ أَتَاہُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّہُ إِلَيْہِمْ وَمَنْ أَتَاہُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَرُدُّوہُ وَعَلَی أَنْ يَدْخُلَہَا مِنْ قَابِلٍ وَيُقِيمَ بِہَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَا يَدْخُلَہَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ وَالسَّيْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِہِ فَجَاءَ أَبُو جَنْدَلٍ يَحْجِلُ فِي قُيُودِہِ فَردہ إِلَيْہِم
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے روز مشرکین سے تین شرائط پر صلح کی،مشرکین میں سے جو شخص آپ کے پاس آئے گا اسے واپس کیا جائے گا،اور مسلمانوں کی طرف سے جو اُن کے پاس آئے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا اور وہ اگلے سال مکہ آئیں گے اور تین دن قیام کریں گے،اور وہ اپنا اسلحہ تلوار،کمان وغیرہ چھپا کر (نیام میں بند کر کے) لائیں گے۔اتنے میں ابوجندل ؓ اپنی بیڑیوں میں جھکڑے ہوئے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں واپس کر دیا۔متفق علیہ۔