Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4117 (مشکوۃ المصابیح)

[4117] متفق علیہ، رواہ البخاري (3297) و مسلم (2233/128)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن ابْن عمر أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّہُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ قَالَ عَبْدُ اللہِ: فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً أَقْتُلَہَا نَادَانِي أَبُو لُبَابَةَ: لَا تَقْتُلْہَا فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ. فَقَالَ: إِنَّہُ نَہَی بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ ذَوَات الْبيُوت وَہن العوامر

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’سانپوں کو قتل کرو اور خاص کر دو لکیروں والے اور دم کٹے سانپ کو قتل کرو،کیونکہ وہ دونوں بینائی ختم کر دیتے ہیں،اور حمل گرا دیتے ہیں۔‘‘ عبداللہ ؓ نے فرمایا: اس اثنا میں کہ میں ایک سانپ کو مارنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑا تو ابولبانہ ؓ نے مجھے آواز دی: اسے مت مارو میں نے کہا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سانپوں کو مارنے کا حکم فرمایا ہے،انہوں نے کہا: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بعد گھروں میں رہنے والوں کو مارنے سے منع فرما دیا تھا۔کیونکہ وہ ان (گھروں) کو آباد رکھنے والے ہیں۔متفق علیہ۔