Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4216 (مشکوۃ المصابیح)
[4216] إسنادہ حسن، رواہ أحمد (364/6 ح 27593) و الترمذي (2037 وقال: حسن غریب) و ابن ماجہ (3442)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن أُمِّ المنذِر قَالَتْ: دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ وَمَعَہُ عَلِيٌّ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَأْكُلُ وَعَلِيٌّ مَعَہُ يَأْكُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَعَلِيٍّ: ((مَہْ يَا عَلِيُّ فَإِنَّكَ نَاقِہٌ)) قَالَتْ: فَجَعَلْتُ لَہُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((يَا عَلِيُّ مِنْ ہَذَا فَأَصِبْ فَإِنَّہُ أَوْفَقُ لَكَ)) . رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ
ام منذر ؓ بیان کرتیں ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور علی ؓ بھی آپ کے ہمراہ تھے،ہمارے گھر میں کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں تناول فرمانے لگے اور علی ؓ بھی آپ کے ساتھ کھانے لگے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی ؓ سے فرمایا:’’علی! باز رہو،کیونکہ تم ابھی ابھی صحت یاب ہوئے ہو۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں،میں نے ان کے لیے چقندر اور جو پکائے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’علی! یہ کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے زیادہ موزوں ہے۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ۔