Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5486 (مشکوۃ المصابیح)
[5486] حسن، رواہ الترمذي (2234 وقال: غریب) و أبو داود (4756)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن أَي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((إِنَّہُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ الدجالَ قومَہ وإِني أُنذركموہ)) فرصفہ لَنَا قَالَ: ((لَعَلَّہُ سَيُدْرِكُہُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي)) . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ فَكَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ((مِثْلُہَا)) يَعْنِي الْيَوْمَ ((أوخير)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
ابو عبیدہ بن جراح ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’نوح ؑ کے بعد ہر نبی ؑ نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے،اور میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کا تعارف کرایا،فرمایا:’’عنقریب کوئی جس نے مجھے دیکھا ہے یا میرا کلام سنا ہے،اسے پا لے گا۔‘‘ انہوں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! اس وقت ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جیسے آج ہیں یا (اس سے) بہتر۔‘‘ حسن،رواہ الترمذی و ابوداؤد۔