Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5541 (مشکوۃ المصابیح)

[5541] متفق علیہ، رواہ البخاري (3348) و مسلم (379/ 222)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: يَقُولُ اللہُ تَعَالَی: يَا آدَمُ فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّہُ فِي يَدَيْكَ. قَالَ: أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ. قَالَ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَعِنْدَہُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ (وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُكَارَی وَمَا ہُمْ بِسُكَارَی وَلَكِنَّ عَذَابَ اللہِ شديدٌ) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ وَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ؟ قَالَ: ((أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْكُمْ رَجُلًا وَمِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفٌ)) ثُمَّ قَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّةِ)) فَكَبَّرْنَا. فَقَالَ: ((أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَہْلِ الْجَنَّةِ)) فَكَبَّرْنَا فَقَالَ: ((أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَہْلِ الْجَنَّةِ)) فَكَبَّرْنَا قَالَ: ((مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ أَوْ كشعرة بَيْضَاءَ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ)) . مُتَّفَقٌ عَلَيْہِ

ابوسعید خدری ؓ،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم! وہ عرض کریں گے: حاضر ہوں،تیار ہوں،اور ساری خیر تیرے ہاتھوں میں ہے۔وہ فرمائے گا: جہنم جانے والوں کو نکال دو،وہ عرض کریں گے،جہنم جانے والے کتنے ہیں؟ وہ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے،اس وقت بچے بوڑھے ہو جائیں گے،ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی،اور تم لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو گے،حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے،بلکہ اللہ کا عذاب شدید ہو گا۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے وہ ایک کون ہو گا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تمہیں بشارت ہو،کیونکہ وہ ایک آدمی تم میں سے ہو گا جبکہ یاجوج ماجوج ہزار ہوں گے۔‘‘ پھر فرمایا:’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ ایک چوتھائی جنتی تم ہو گے۔‘‘ ہم نے (خوش ہو کر) نعرہ تکبیر بلند کیا،پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’میں امید کرتا ہوں کہ تم جنت میں ایک تہائی ہو گے۔‘‘ ہم نے پھر نعرہ تکبیر بلند کیا،پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’میں امید کرتا ہوں کہ نصف جنتی تم ہو گے۔‘‘ ہم نے اللہ اکبر کہا،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم تمام لوگوں میں اتنے ہو گے جتنے سفید بیل کی جلد پر ایک سیاہ بال،یا کسی سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال ہوتا ہے۔‘‘ متفق علیہ۔