Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5551 (مشکوۃ المصابیح)

[5551] متفق علیہ، رواہ البخاري (2441) و مسلم (52/ 2768)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم: إِن اللہ يدني الْمُؤمن فَيَضَع علی كَنَفَہُ وَيَسْتُرُہُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ أَتَعْرِفُ ذَنْب كَذَا؟ فَيَقُول: نعم يَا رب حَتَّی قَرَّرَہُ ذنُوبہ وَرَأی نَفْسِہِ أَنَّہُ قَدْ ہَلَكَ. قَالَ: سَتَرْتُہَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُہَا لَكَ الْيَوْمَ فَيُعْطَی كِتَابَ حَسَنَاتِہِ وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيُنَادَی بِہِمْ علی رؤوسِ الْخَلَائِقِ: (ہَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَی رَبِّہِمْ أَلَا لعنةُ اللہِ علی الظالمينَ) مُتَّفق عَلَيْہِ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بے شک اللہ مومن کو قریب کر لے گا،اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپا کر فرمائے گا: کیا تم فلاں گناہ پہچانتے ہو؟ کیا تم کو فلاں گناہ یاد ہے؟ وہ عرض کرے گا،رب جی! جی ہاں،حتی کہ جب وہ اسے اس کے گناہوں کا اعتراف و اقرار کرا لے گا تو وہ شخص اپنے دل میں سوچے گا کہ وہ تو مارا گیا،اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالے رکھا اور آج میں تیرے گناہ معاف کرتا ہوں،اسے اس کی نیکیوں کی کتاب (اعمال نامہ) دے دی جائے گی،البتہ کفار اور منافقین تو انہیں ساری مخلوق کے سامنے بلایا جائے گا اور کہا جائے گا:’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا،سن لو! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔‘‘ متفق علیہ۔