Mishkaat ul Masabeeh Hadith 909 (مشکوۃ المصابیح)
[909] متفق علیہ، رواہ البخاري (6230) [و 6265 بلفظ: وھو بین ظھر انینا فلما قبض قلنا: السلام یعني علٰی النبي ﷺ] و مسلم (55/ 402)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَی اللہِ قبل عبادہ السَّلَام علی جِبْرِيل السَّلَام علی مِيكَائِيل السَّلَام علی فلَان وَفُلَان فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ ﷺ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْہِہِ قَالَ: ((لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَی اللہِ فَإِنَّ اللہَ ہُوَ السَّلَامُ فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّہَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَكَاتُہُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّہُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ثُمَّ لْيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَہُ إِلَيْہِ فيدعوہ))
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں،جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم کہتے: اللہ پر اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو،جبرائیل ؑ اور میکائیل ؑ پر سلام ہو،فلاں پر سلام ہو،جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنا رخ انور ہماری طرف کر کے فرمایا:’’تم ایسے نہ کہو: اللہ پر سلام ہو،کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے،جب تم میں سے کوئی (تشہد کے لیے) نماز میں بیٹھے تو وہ یوں کہے:’’(میری ساری) قولی،بدنی،اور مالی عبادات صرف اللہ کے لیے خاص ہیں،اے نبی آپ پر اللہ کی رحمت،سلامتی اور برکتیں ہوں اور ہم پر اور اللہ کے دوسرے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو،کیونکہ جب وہ ایسے کہے گا تو یہ دعا زمین و آسمان کے ہر بندہ صالح کو پہنچ جائے گی،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں،پھر وہ اپنی پسندیدہ دعا کرے۔‘‘ متفق علیہ۔