Mishkaat ul Masabeeh Hadith 910 (مشکوۃ المصابیح)
[910] رواہ مسلم (60/ 403) والترمذي (290 و قال: حسن صحیح غریب .)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن عبد اللہ بن عَبَّاس أَنَّہُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ فَكَانَ يَقُولُ: ((التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّہِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّہَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَكَاتُہُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِينَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ)) . رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَلَمْ أَجِدْ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَلَا فِي الْجَمْعِ بَين الصَّحِيحَيْنِ: ((سَلام عَلَيْك)) و ((سَلام عَلَيْنَا)) بِغَيْرِ أَلْفٍ وَلَامٍ وَلَكِنْ رَوَاہُ صَاحِبُ الْجَامِع عَن التِّرْمِذِيّ
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تشہد (اس اہتمام کے ساتھ) سکھاتے تھے جیسے ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے:’’(میری ساری) قولی،بدنی اور مالی عبادات اللہ کے لیے خاص ہیں،اے نبی! آپ پر اللہ کی رحمت،سلامتی اور برکتیں ہوں،اور ہم پر اور اللہ کے دوسرے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ رواہ مسلم۔ اور میں نے صحیحین میں اور حمیدی میں الف لام کے بغیر ((سلام علیک)) اور ((سلام علینا)) نہیں پایا،لیکن صاحب الجامع (ابن اثیر)نے امام ترمذی سے اسے روایت کیا ہے۔