Mishkaat ul Masabeeh Hadith 972 (مشکوۃ المصابیح)
[972] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (1007) ٭ وقال الذہبي في تلخیص المستدرک (1/ 270): ’’المنھال (بن خلیفۃ) ضعفہ ابن معین و أشعث (بن شعبۃ) لین و الحدیث منکر .‘‘
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكْنَی أَبَا رِمْثَةَ قَالَ صَلَّيْتُ ہَذِہِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ ہَذِہِ الصَّلَاةِ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِہِ وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَہِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَی مِنَ الصَّلَاةِ فَصَلَّی نَبِيُّ اللہِ ﷺ ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِہِ وَعَنْ يَسَارِہِ حَتَّی رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْہِ ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ يَعْنِي نَفْسَہُ فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَہُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَی مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ فَوَثَبَ إِلَيْہِ عُمَرُ فَأَخَذَ بمنكبہ فَہَزَّہُ ثُمَّ قَالَ اجْلِسْ فَإِنَّہُ لَمْ يُہْلِكْ أَہْلَ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّہُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صلواتہم فَصْلٌ. فَرَفَعَ النَّبِيُّ ﷺ بَصَرہ فَقَالَ: ((أصَاب اللہ بك يَا ابْن الْخطاب)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
ازرق بن قیس ؒ بیان کرتے ہیں،ہمارے امام ابورمثہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو انہوں نے کہا: میں نے یہ نماز یا اس کی مثل نماز،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی تھی،انہوں نے کہا: ابوبکر ؓ و عمر ؓ پہلی صف میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب کھڑے ہوا کرتے تھے،ایک آدمی جو تکبیر اولی میں آ کر شامل ہوا،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی،پھر اپنے دائیں بائیں سلام پھیرا حتیٰ کہ ہم نے آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مڑے جیسے ابورمثہ یعنی وہ خود مڑے،پس وہ آدمی جو تکبیر اولی میں آپ کے ساتھ شریک ہوا تھا،وہ کھڑا ہوا اور پھر نماز شروع کر دی،تو عمر ؓ جلدی سے کھڑے ہوئے اور اسے اس کے کندھوں سے پکڑ کر خوب ہلایا،پھر فرمایا: بیٹھ جاؤ،کیونکہ اہل کتاب اسی لیے ہلاک ہوئے تھے کہ ان کی (فرض و نفل) نمازوں میں کوئی وقفہ نہیں ہوتا تھا،پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نظر اٹھائی تو فرمایا:’’ابن خطاب! اللہ نے تیری وجہ سے حق قائم کر دیا۔‘‘ ضعیف۔