Mishkaat ul Masabeeh Hadith 977 (مشکوۃ المصابیح)

[977] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (3561) [و للحدیث شواھد ضعیفۃ .]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ بَعْثًا قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا غَنَائِمَ كَثِيرَةً وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَّا لَمْ يَخْرُجْ مَا رَأَيْنَا بَعْثًا أَسْرَعَ رَجْعَةً وَلَا أَفْضَلَ غَنِيمَةً مِنْ ہَذَا الْبَعْثِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَی قَوْمٍ أَفْضَلَ غَنِيمَةً وَأَفْضَلَ رَجْعَةً؟ قَوْمًا شَہِدُوا صَلَاةَ الصُّبْحِ ثمَّ جَلَسُوا يذكرُونَ اللہ حَتَّی طلعت عَلَيْہِم الشَّمْس أُولَئِكَ أسْرع رَجْعَة وَأَفْضَلَ غَنِيمَةً)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَحَمَّاد بن أبي حميد ہُوَ الضَّعِيف فِي الحَدِيث

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا،انہوں نے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا اور بہت جلد (مدینہ) واپس آ گئے تو ہم میں سے ایک آدمی نے کہا: ہم نے اس لشکر سے زیادہ مال غنیمت لے کر اور اتنی جلدی واپس آتے ہوئے کوئی لشکر نہیں دیکھا،تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا میں تمہیں زیادہ مال غنیمت کے ساتھ زیادہ جلدی واپس آنے والے لشکر کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ ایسے لوگ ہیں جو با جماعت فجر پڑھنے کے بعد بیٹھ کر طلوع آفتاب تک اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں،پس یہ وہ لوگ ہیں جو بہترین مال غنیمت لے کر بہت جلد واپس آنے والے ہیں۔‘‘ ترمذی،اور انہوں نے کہا: یہ حدیث غریب ہے،حماد بن ابی حمید راوی حدیث کے بارے میں ضعیف ہے۔ضعیف۔