Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4646 (سنن النسائي)

[4646]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ الْأَسْوَدِ،عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ،فَاشْتَرَطَ أَہْلُہَا وَلَاءَہَا،فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((أَعْتِقِيہَا،فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْطَی الْوَرِقَ))،قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُہَا،قَالَتْ: فَدَعَاہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَہَا مِنْ زَوْجِہَا،فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا وَكَانَ زَوْجُہَا حُرًّا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے بریرہ کو (اس کے مالکان سے) خریدا تو اس کے مالکان نے اس کے ولا کی اپنے لیے شرط لگالی۔میں نے یہ بات نبی اکرمﷺ سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا: ’’اسے آزاد کر دے۔ولا اسی کی ہوتی ہے جو پیسے دیتا (غلام کو خریدتا) ہے۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے اسے آزاد کر دیا تو رسول اللہﷺ نے اسے بلایا اور اسے اپنے خاوند کے (پاس رہنے یا نہ رہنے کے) بارے میں اختیار دیا۔اس نے خاوند سے اپنی جدائی کو پسند کیا۔اس کا خاوند آزاد تھا۔