Sunan Al-Nasai Hadith 4647 (سنن النسائي)
[4647]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ،عَنْ عَائِشَةَ،أَنَّہَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ،وَأَنَّہُمُ اشْتَرَطُوا وَلَاءَہَا،فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((اشْتَرِيہَا فَأَعْتِقِيہَا،فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ)) وَأُتِيَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ: ہَذَا تُصُدِّقَ بِہِ عَلَی بَرِيرَةَ فَقَالَ: ((ہُوَ لَہَا صَدَقَةٌ،وَلَنَا ہَدِيَّةٌ،وَخُيِّرَتْ))
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے اسے خریدنے کا ارادہ کیا لیکن اس کے مالکوں نے اپنے لیے ولا کی شرط لگالی۔انھوں نے یہ بات رسول اللہﷺ سے ذکر کی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔بلاشبہ ولا اسی کی ہوتی ہے جو (غلام کو) آزاد کرتا ہے۔‘‘ (یہ واقعہ بھی ہوا کہ) رسول اللہﷺ کے پاس گوشت لایا گیا اور بتلایا گیا کہ یہ گوشت بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے (اور اس نے ہمیں بھیجا ہے)۔آپ نے فرمایا: ’’صدقہ اس کے لیے ہے۔ہمارے لیے تحفہ ہی ہے۔‘‘ اور اسے (خاوند کے بارے میں) اختیار دیا گیا۔