Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4714 (سنن النسائي)

[4714]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ،قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ،قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،عَنْ أَبِي لَيْلَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ،أَنَّ سَہْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَہُ،أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ سَہْلٍ،وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَی خَيْبَرَ مِنْ جَہْدٍ أَصَابَہُمَا،فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ: أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ سَہْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ،فَأَتَی يَہُودَ فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللہِ قَتَلْتُمُوہُ،فَقَالُوا: وَاللہِ مَا قَتَلْنَاہُ،ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّی قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَذَكَرَ ذَلِكَ لَہُ،ثُمَّ أَقْبَلَ ہُوَ وَحُوَيِّصَةُ وَہُوَ أَخُوہُ أَكْبَرُ مِنْہُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَہْلٍ فَذَہَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَہُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((كَبِّرْ كَبِّرْ)) وَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ،ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ،وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ)) فَكَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ،فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللہِ مَا قَتَلْنَاہُ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: ((تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟)) قَالُوا: لَا،قَالَ: ((فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَہُودُ؟)) قَالُوا: لَيْسُوا مُسْلِمِينَ. فَوَدَاہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِہِ فَبَعَثَ إِلَيْہِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّی أُدْخِلَتْ عَلَيْہِمُ الدَّارَ،قَالَ سَہْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْہَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ

حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بتایا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بھوک اور مشقت کے ستائے ہوئے خیبر کی طرف گئے۔محیصہ کسی کام سے واپس آئے تو انھیں بتایا گیا کہ عبداللہ بن سہل کو قتل کر کے کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا: اللہ کی قسم! تم نے اسے قتل کیا ہے۔انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔پھر وہ مدینہ منورہ واپس آئے اور رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہو کر پوری بات آپ سے ذکر کی۔پھر وہ خود،ان کے بڑے بھائی حویصہ اور (مقتول کے بھائی) عبدالرحمٰن بن سہل تینوں آئے۔محیصہ بات کرنے لگے کیونکہ وہ خیبر میں (مقتول کے ساتھ) تھے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’بڑے کو بات کرنے دو۔‘‘ تب حویصہ بات کی۔پھر محیصہ نے بھی بات چیت کی۔رسول اللہﷺ نے اس کی بابت فرمایا: ’’یا تو یہودی تمھارے مقتول کی دیت دیں گے یا انھیں جنگ لڑنا ہوگی۔‘‘ نبی اکرمﷺ نے اس کی بابت یہودیوں کو خط لکھا۔انھوں نے (جواباً) لکھا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔رسول اللہﷺ نے حویصہ،محیصہ اور عبدالرحمٰن سے فرمایا: ’’کیا تم (پچاس) قسمیں کھا کر اپنے مقتول کے بدلے کے حق دار بنتے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: ’’پھر یہودی تمھارے سامنے (پچاس) قسمیں کھا لیں؟‘‘ انھوں نے کہا: وہ تو مسلمان نہیں (جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے)۔تب رسول اللہﷺ نے اس مقتول کی دایت اپنی طرف (بیت المال) سے ادا کر دی اور ان کو سو اونٹنیاں بھیج دیں۔حتیٰ کہ ان کے گھر میں داخل کی گئیں۔حضرت سہل نے فرمایا: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات بھی ماری تھی۔