Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4769 (سنن النسائي)

[4769]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ،قَالَ: أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ،عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ،عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ،عَنْ عَمَّيْہِ سَلَمَةَ،وَيَعْلَی ابْنَيْ أُمَيَّةَ قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ،وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا،فَقَاتَلَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ،فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَہُ،فَجَذَبَہَا مِنْ فِيہِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَہُ،فَأَتَی الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ،فَقَالَ: ((يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَی أَخِيہِ فَيَعَضُّہُ كَعَضِيضِ الْفَحْلِ،ثُمَّ يَأْتِي يَطْلُبُ الْعَقْلَ لَا عَقْلَ لَہَا)) فَأَبْطَلَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ

امیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بیٹوں حضرت سلمہ اور یعلی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: ہم غزوئہ تبوک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ گئے۔ہمارے ساتھ ہمارا ایک ساتھ بھی تھا۔وہ کسی دوسرے مسلمان سے لڑ پڑا۔اس آدمی نے اس کے بازو پر دانت گاڑ دیے۔اس نے بازو اس کے منہ سے کھینچا تو ساتھ دانت بھی نکل آیا۔وہ آدمی رسول اللہﷺ کے پاس گیا اور دیت دلوانے کا مطالبہ کرنے لگا۔آپ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جا کر اس طرح کاٹتا ہے جیسے اونٹ چباتا ہے۔پھر آکر دیت مانگنا شروع کر دیتا ہے؟ اس (طرح کے دانتوں) کی کوئی دیت نہیں۔‘‘ پھر رسول اللہﷺ نے اسے دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا۔