Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4772 (سنن النسائي)

[4772]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ،عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ،عَنْ عَطَاءٍ،عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی،عَنْ أَبِيہِ قَالَ: ((غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا فَقَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا،فَعَضَّ الْآخَرُ،فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُہُ،فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَہُ،فَأَہْدَرَہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ))

حضرت یعلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: میں غزوئہ تبوک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ جنگ کو گیا تو میں نے ایک شخص نوکر رکھ لیا۔پھر میرا نوکر کسی آدمی سے لڑ پڑا۔اس آدمی نے اسے کاٹ کھایا حتیٰ کہ اس کا سامنے والا دانت گر گیا۔وہ شخص نبی اکرمﷺ کے پاس آیا اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی۔نبی اکرمﷺ نے اسے رائیگاں قرار دیا۔(اس کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا)۔