Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4773 (سنن النسائي)

[4773]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ،قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ،عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی،عَنْ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ،وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلٍ لِي فِي نَفْسِي،وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا،فَعَضَّ أَحَدُہُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِہِ،فَانْتَزَعَ إِصْبَعَہُ،فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَہُ فَسَقَطَتْ،فَانْطَلَقَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَأَہْدَرَ ثَنِيَّتَہُ وَقَالَ: ((أَفَيَدَعُ يَدَہُ فِي فِيكَ تَقْضَمُہَا؟))

حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تنگی والے لشکر میں گیا اور میرے نزدیک میرا یہ عمل سب سے افضل عمل ہے۔وہاں میرا ایک نوکر کسی آدمی سے لڑ پڑا۔ان میں سے کسی ایک نے دوسرے کی انگلی پر دانت گاڑ دیا۔اس نے جو انگلی کھینچی تو ساتھ ہی دانت بھی اکھڑ آیا۔دوسرا شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے کوئی معاوضہ نہ دلوایا بلکہ فرمایا: ’’کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دیے رکھتا کہ تو اسے چبا ڈالتا؟‘‘